Posts

Showing posts from October, 2020

یورپی ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد؟ وجہ جانئے

Image
حالانکہ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے اور مسلمان یورپ کی آبادی کا صرف (5) ہیں ۔لیکن کُچھ ممالک ایسے بھی ھیں جیسا کہ فرانس اور سویڈن جن میں مسلمان زیادہ تعداد میں آباد ہیں بین الاقوامی ادارے کے مطابق آنے والے وقت میں یورپ کی آبادی میں مسلم حصّہ میں اِضافہ کی توقع کی جا رہی ہے اور مسلمان کی تعداد ڈبل ہو سکتی ہے۔ ریسرچ سینٹر پیو کے2016 کے آبادی کے تخمینے کا استعمال کرتے ہوئے یہاں  یورپ میں آباد مسلمانوں کے بارے میں کچھ حقائق پیش کئے جا رہے ہیں۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس آور جرمنی میں رہائش پذیر ہیں۔(2016) کے وسط میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق فرانس میں ملک کی آبادی کا 5.7 ملین مسلمان یعنی (ملک کی آبادی کا  8.8 فیصد) آباد ہیں۔جبکہ جرمنی میں 5 ملین مسلمان(ملک کی کل آبادی کا 6.1فیصد) آباد ہیں. یورپ میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سےاضافہ جاری ہے  اور آنے والی دہائیوں تک یہ اضافہ ہوتا رہےگا۔صرف (2006) کے درمیان سے لیکر (2016) کے وسط تک یورپ کی مسلمان آبادی میں %1 اضافہ ہوا ہےاور وہ %3.8 سے بڑھ کر %4.9(یورپ میں کل مسلم کی تعداد19.5 سے25.8ملین)ہو گئی ہے۔ دوسرے ی...

نیا تباہ کن رواج !

Image
عام رواج سا ھو گیا ھے کہ بالمشافہ یا فون پر بات ختم کرتے یا کسی کو رخصت کرتے ھوئے بلکہ اب تو تمام ریڈیو، ٹی وی میزبان اپنا پروگرام ختم کرتے ھوئے کہتے ھیں کہ:  یا اپنا خیال رکھیئے گا(Take care)  کبھی ھم نے سوچا کہ اس جملے کے ذریعے ھم اپنے عزیزوں کو کیا پیغام دے رھے ھوتے ھیں؟   اس کا مطلب ھے کہ آپ کی حفاظت یا نگہبانی کرنے والا اور تو کوئی ھے نہیں، آپ اس دنیا میں لاوارث ھیں، اسلئے اپنا خیال خود ھی رکھئے گا۔   اور کبھی سوچا کہ یہ منحوس اور خدا ناشناس جملہ کن خدا شناس اور بابرکت جملوں کی جگہ ھم بولتے ھیں؟   مسلمان کوئی بھی زبان بولتے ھوں, وہ ایسے مواقع پر اپنے عزیزوں کو نہایت بابرکت دعاؤں کےساتھ رخصت کیا کرتے تھے,  جنہیں سن کر نہ صرف سننے والے کی روح کی گہرائیوں میں ٹھنڈک کا ایک احساس پیدا ہوتا تھا بلکہ یہ دعائیں ایک ملکوتی سائبان بن کر ہمارے عزیز کےساتھ ساتھ رہتی تھیں . ہمارے ہاں ایسے موقع پر عربی زبان میں. ..فی امان اَلله ... اردو میں ...اللہ حافظ ... پنجابی میں ..رب راکھا .. اور پشتو میں ...خدائے پہ امان .... جیسے میٹھے بول بولے جاتے, جن سب کا "مطلب" ایک ہی...

کیا واقعی اب واٹس ایپ مفت استعمال نہیں کر سکیں گے؟

Image
دنیا کی مقبول ترین ایپلیکیشن واٹس ایپ کمپنی نے بڑا اعلان کردیا۔ واٹس ایپ مالکان کی جانب سے یہ بات بتائی گئی ہے کہ اب کاروباری سلسلے میں لوگ اس کا استعمال نہیں کر سکیں گے اس کے لئے سروس چارجز وصول کیے جائیں گے۔کمپنی نے یہ فیصلہ واٹس ایپ کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے ۔ کمپنی نے واٹس ایپ چارجز کے حوالے سے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اب صارفین کے لئے بزنس ایپ اور واٹس ایپ بزنس(API) متعارف کروایا گیا ہے تاکہ تمام چھوٹے بڑے کاروباری اداروں کےچیٹنگ کے نظام کو بہتر اور منظم کرنے میں مددمل سکے۔اس سلسلے میں تمام صارفین کا بھی یہی خیال ہےکہ واٹسایپ تمام کاروباری اداروں کے لئے رابط قائم کرنے کاسب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔مزید براں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اب اپنی فراہم کردہ کچھ سروسز کا کاروباری اداروں سے معاوضہ وصول کرے گا یعنی اب چارجز لاگو ہونگے اور یہ معاوضہ واٹس ایپلیکیشن کے کاروبار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ صارفین واٹس ایپ کو دوستوں، رشتےداروں اور فیملی سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے باعث ھم مستقبل میں نئی نئی خصوصیات متعارف کرواتے رہیں گے تاکہ لوگو...

حرام اور حلال گوشت کی پہچان

Image
Rao Junaid                                  آج کے نفسا نفسی کے دور میں لوگ لالچ میں اتنا آگے نکل گئے ہیں کے وہ پیسے کمانے کے لئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اب گوشت ایک ایسی اشیاء ہے جسے ہم مسلمان کھاتے ہیں لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ گوشت حلال جانور کا ہو لیکن کُچھ بےضمیر لوگ  اپنے ضمیر کا سودا کر کے حرام گوشت بیچ دیتے ہیں آج کل لوگ  حلال گوشت کی بجائے گدھے اور دیگر جانوروں کا گوشت حلال جانور کا نام دے کر فروخت کر دیتے ہیں۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوام کو کُچھ ضروری ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل کر کے حرام کھانے سے بچ سکتے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گائے اور بکرے کے گوشت کے ریشے ذرا سخت ہوتے ہیں، گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا پکڑیں، اس کو ہتھیلی پر بالکل سیدھا رکھیں اور اگر نہ گرے تو سمجھ لیں کہ حلال گوشت ہے لیکن اگر گر جائے تو کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ گدھے کے گوشت کے ریشے نرم ہوتے ہیں۔ گدھے کے گوشت کا رنگ گہرا جامنی ہوتا ہے ، ہڈیاں بکرے سے مختلف اور گوشت میں ہلکی مٹھاس ہوتی ہے۔

پنجاب میں تاریخ کی سب سے مہنگی گاڑی رجسٹرڈ

Image
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن  کے مطابق اسپورٹس کار لیمبر گینی کی قیمت ساڑھے (11) کروڑ روپے ہے اور گاڑی کی رجسٹریشن (45)  لاکھ (32) ہزار روپے میں کی گئی۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کچھ دن پہلے اتنی مہنگی گاڑی کی رجسٹریشن سے معذرت کی تھی کیونکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سسٹم میں (10) کروڑ روپے مالیت تک کی گاڑیوں کی رجسٹریشن ہو سکتی تھی محکمہ ایکسائز نے اتنی مہنگی گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے اپنے قوانین میں ترمیم کی جس کے بعد گاڑی کی رجسٹریشن کی گئی۔

پاکستان نے فائیوجی انٹرنیٹ سروس دسمبر2021 میں شروع کرنے کا بڑا اعلان کردیا ہی ہے

Image
  اسلام آباد: دنیا فور جی کے بعد اب تیز ترین رفتار رکھنی والی انٹرنیٹ سروس ’فائیو جی‘ پر منتقل ہو رہی ہے جس کے لیے موبائل کمپنیوں نے فائیو-جی فونز بھی مارکیٹ میں پھیلا دیئے ہیں تاہم پاکستان میں اب تک تیز ترین انٹرنیٹ سروس کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے بتایا کہ حکومت فائیو جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کے لیے تیزی کے ساتھ کوششیں کر رہی ہے اور دسمبر 2021 تک فائیو جی سروس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبہ بندی کو عملہ جامہ پہنانے کے لیے ٹیلی کام کمپنی زونگ کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے ایک اسپتال میں فائیو جی سروس کا ٹرائل بھی کیا جائے گا۔ اس سے قبل اسلام آباد، کراچی اور گوادر کو فائبر آپٹکس سے منسلک کرنے پر کام مکمل کرنا ہوگا جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے مزید بتایا کہ ان کی وزارت نے ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی بولی کے لیے پالیسی کمیٹی بنائی ہے جس میں تمام موبائل کمپنیوں کے علاوہ فریکوئن...

دریائے نیل: ایک بند سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایتھوپیا کیوں ناراض ہے?

Image
  تھ وپیا کے وزیر اعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر کہ مصر دریائے نیل پر متنازع بند کو تباہ کر دے گا کے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک ’کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گ ا۔ ا فری قی ملکی ایتھوپیا میں ’گرینڈ ایتھوپین رینیساں‘ کے نام سے تعمیر ہونے والا بند، مصر اور سوڈان کے بیچ ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصر بند کے ساتھ نہیں رہ سکے گا اور وہ شاید اسے ’اڑا دے۔‘ ایتھوپیا مانتا ہے کہ اس تنازع میں امریکہ مصر کا ساتھ دے رہا ہے۔ امریکہ نے ستمبر میں اس وقت ایتھوپیا کے لیے مالی مدد میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا جب افریقی ملک نے جولائی میں اس بند کو بھرنا شروع کیا تھا۔ ہفتے کے روز ایتھوپیا کے وزیر خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کر کے صدر ٹرمپ کے تبصرے پر وضاحت مانگی۔ بند کیوں متنازع ہے؟ مصر ا  ض اختیار میں لے    لیا ہے۔ نی کی منقطع ہوجائے گا جس سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچے گا روریات پوری    ذریعہ  پنی پا کیونکہ ایتھوپیا نے افریقہ کے سب سے طویل دریا کے بہاؤ کو اپنے  چار ارب ڈالر کی لاگت کا سے تمعیر کیا جانے والا ...