فرعون خوفو 7 عجوبوں میں واحد عجوبہ ہے جو۔۔۔۔۔۔؟
فرعون خوفو نہ تو جنگجو تھا اور نہ ہی فاتح۔ اس نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کوئی خاص کام نہیں کیا۔ وہ قانون ساز یا عالم بھی نہیں تھا۔ لیکن خوفو نے اس بات کا اہتمام ضرور کیا کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد جب ان گنت بادشاہوں اور شاہی خاندانوں کا نام مٹ جائے تو لوگ اِسے یاد رکھیں۔ اس نے ایک مقبرہ تعمیر کیا۔ ایسا پُرشکوہ مقبرہ کہ انسانی ہاتھ اس سے بہتر شاید ہی کوئی دوسرا بنا سکے۔ یہی شاہکار اِسے نقشِ دوام دے گیا۔ خوفو کا ہرم دریائے نیل کے مغربی کنارے سے پانچ میل دور الجزیزہ جیزہ (Giza) نامی گاؤں کے قریب واقع ہے۔ یہ ہرم گویا ایک مصنوعی پہاڑ ہے۔ خوفو نے اسے ’’اخت‘‘ یعنی ’’عظیم الشان‘‘ کا نام دیا۔ یہ نام اس عمارت کی تعمیر کے پچاس صدیوں بعد بھی ہرم پر موزوں بیٹھتا ہے۔ خوفو کو تاریخ کا حصہ بنے پانچ ہزار سال گزر چکے۔ وہ مصر کا مشہور فرعون گزرا ہے۔ اس کا دورِ حکومت 2900 سے 2875 قبل از مسیح رہا۔ مطلب یہ کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کے وزیر کی حیثیت سے کام کیا تو یہ ہرم کافی قدیم ہو چکا تھا۔ وہ یقیناً اس کے قریب سے گزرتے ہوئے اُسے دن کے وقت دمکتے اور رات کو ستاروں سے باتیں کرتے دیکھتے ہوں گے...