(Placebo Effect) پلاسیبو ایفیکٹ
انسانی ذہن جسم پر بہت سے طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے- یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ اگر آپ مثبت سوچ رکھیں تو جسم کا نظام درست رہتا ہے- منفی سوچیں، ٹینشن، غیر ضروری فکریں جسم کے نظام کو خراب کر دیتی ہیں اور بلڈ پریشر، السر، اور دل کی بیماریوں جیسے امراض لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- یعنی آپ کے سوچنے کا انداز آپ کے جسم کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے- اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی مریض کو کوئی بے اثر دوا (مثلاً میٹھی گولی، لال رنگ کا شربت) دی جائے لیکن اسے یہ یقین دلا دیا جائے کہ یہ دنیا کی بہترین دوا ہے اور اس کے مرض کا تیر بہدف علاج ہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ وہ دوا کھانے کے بعد اپنی حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے گا- اس مظہر کو پلاسیبو ایفیکٹ کہا جاتا ہے- بعض اوقات یہ پلاسیبو ایفیکٹ اتنا پُر اثر ہوتا ہے کہ مریض پر اس فیک دوا کا اثر حقیقی دوا کی طرح کا ہوتا ہے
جدید طبی سائنس میں پلاسیبو ایفیکٹ کو بہت سنجیدگی سے سٹڈی کیا جاتا ہے- اگر کسی دوا کا کسی مرض پر اثر معلوم کرنا ہو تو یہ بات بہت اہم ہو جاتی ہے کہ اس دوا کے اثرات کو پلاسیبو ایفیکٹ سے الگ سٹڈی کیا جائے- چنانچہ سائنس دان جہاں اس دوا کی گولیاں تیار کرتے ہیں جسے سٹڈی کرنا مقصود ہو وہاں عین اسی شکل اور رنگ کی ایسی گولیاں بھی تیار کرتے ہیں جن میں کوئی دوا موجود نہ ہو- اس فیک دوا کو پلاسیبو کہا جاتا ہے
ڈبل بلائنڈ سٹڈیز:
اگر دوا کا اثر معلوم کرنے کے لیے یہ سٹڈی سو مریضوں پر کی جا رہی ہو تو ان میں سے رینڈملی پچاس مریضوں کو اصل دوا دینے کے لیے چنا جاتا ہے اور پچاس کو پلاسیبو یعنی جعلی دوا دینے کے لیے- یہ پلاسیبو دوا دیکھنے میں عین اصل دوا جیسی ہی ہوتی ہے لیکن اس میں وہ کیمیکل نہیں ہوتے جن کے بیماری پر اثرات کو سٹڈی کرنا مقصود ہو- اس کے علاوہ بھی پلاسیبو کو ہر قسم کے کیمیکل سے ہر ممکنہ حد تک پاک یعنی sterile رکھا جاتا ہے تاکہ طبعی طور پر اس پلاسیبو کا کوئی بھی اثر نہ ہو- مریضوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ انہیں اصل دوا دی جا رہی ہے یا جعلی دوا- ایسی سٹڈی کو بلائنڈ سٹڈی کہتے ہیں- اس طرح ان مریضوں پر دوا کے اثرات کی سٹڈی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جو مریض اصل دوا کھا رہے ہیں ان کے مرض کی علامات میں کس قدر بہتری آئی ہے اور جو مریض پلاسیبو دوا کھا رہے ہیں ان میں مرض کی حالت میں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں- ہزاروں سٹٰڈیز سے یہ بات واضح ہے کہ پلاسیبو دوا استعمال کرنے والے کچھ مریض بھی بہتر ہونے لگتے ہیں حالانکہ انہیں اصل دوا نہیں دی جا رہی- اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ انہیں درست دوا دی جا رہی ہے-
تاہم اگر ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کو یہ معلوم ہو کہ کس مریض کو اصل دوا دی جا رہی ہے اور کس کو جعلی، تو یہ ممکن ہے کہ ڈاکٹرز کے رویے سے مریضوں کو اندازہ ہو جائے کہ انہیں درست دوا دی جا رہی ہے یا جعلی دوا- مریض اگر یہ اندازہ لگا لیں کہ انہیں درست دوا نہیں دی جا رہی تو عین ممکن ہے کہ پلاسیبو ایفیکٹ ظاہر نہ ہو- اس لیے جدید سٹڈیز میں نہ صرف مریضوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ انہیں درست دوا دی جا رہی ہے یا پلاسیبو بلکہ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ کس مریض کو درست دوا دی جا رہی ہے اور کس کو پلاسیبو- یعنی نہ صرف مریض اس ضمن میں بلائنڈ ہوتے ہیں بلکہ ڈاکٹرز بھی بلائنڈ ہوتے ہیں- اس پروٹوکول کو ڈبل بلائنڈ پروٹوکول کہا جاتا ہے اور آج کل ڈبل بلائنڈ سٹڈیز کسی بھی دوا کو ٹیسٹ کرنے کا مستند طریقہ ہے- جو دوا ڈبل بلائنڈ سٹڈیز سے نہ گذری ہو حکومت اسے عوام پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی
پلاسیبو ایفیکٹ:
آپ پلاسیبو کو تو سمجھ چکے ہیں کہ پلاسیبو میں کوئی کیمیکل نہیں ہوتا لیکن اس کی شکل و صورت بالکل اس دوا کی سی ہوتی ہے جسے سٹڈی کرنا مقصود ہوتا ہے- اب آپ پلاسبیو ایفیکٹ کا تصور بھی آسانی سے سمجھ جائیں گے- پلاسیبو (یعنی فیک دوا) کھانے سے مریض کی صحت پر جو مثبت اثر پڑتا ہے اسے پلاسیبو ایفیکٹ کہا جاتا ہے- گویا پلاسیبو ایفیکٹ ایک نفسیاتی مظہر ہے جس میں مریض کا یہ یقین کہ اسے درست دوا دی جارہی ہے اس کے مرض کو کم کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے - بعض امراض ایسے ہیں جن میں پلاسیبو ایفیکٹ بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے یعنی یہ امراض پلاسیبو کے استعمال سے بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں- ان امراض میں معمولی نزلہ زکام، الرجی، نسیان (یعنی بھولنے کی بیماری)، مردانہ کمزوری کے علاوہ پارکنسنز جیسی اعصابی بیماریاں بھی شامل ہیں
پلاسیبو ایفیکٹ سے بیماری کی علامات بہتر ہو جانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر مریض کو یہ یقین ہو جائے کہ اس نے ایسی دوا کھا لی ہے کہ اس کا مرض ٹھیک ہو جائے گا تو اس کی اینگزائٹی یعنی پریشانی اور سٹریس کم ہو جاتی ہے اور مریض پُرسکون ہو جاتا ہے- ایسا کرنے سے ایک تو جسم میں سٹریس ہارمونز کم ہو جاتے ہیں جس سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو جاتا ہے (سٹریس ہارمونز مدافعتی نظام کو suppress کر دیتے ہیں) اور دوسرے دماغ ڈوپامین نامی نیوروٹرانسمٹر خارج کرتا ہے جس سے اعصاب یعنی nerves بہتر طور پر کام کرنے لگتے ہیں- ڈوپامین سے نیورونز کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے جس سے یادداشت بہتر ہو جاتی ہے (یہی وجہ ہے کہ نسیان کا مرض پلاسیبو سے وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے) اور خاص طور پر موٹر نیورونز بہتر طور پر کام کرنے لگتے ہیں (یہی وجہ ہے کہ پارکنسنز کے مریض پلاسیبو سے بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں- پارکنسنز کی بیماری موٹر نیورونز کی کارکردگی کے خراب ہو جانے سے ہوتی ہے)- مردانہ کمزوری کے علاج میں بھی پلاسیبو اسی لیے اس قدر کارگر ثابت ہوتے ہیں کہ مردانی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ اینگزائٹی اور خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے- پلاسیبو دوا کھانے سے مریض کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا تناؤ بحال ہو جائے گا جس وجہ سے اس کی اینگزائٹی میں کم آ جاتی ہے اور تناؤ بحال ہو جاتا ہے
پلاسیبو ایفیکٹ بچوں اور جانوروں پر بھی اثر کرتا ہے
اگرچہ پلاسیبو ایفیکٹ کا ایک پہلو مریض کا یہ یقین ہے کہ وہ اس دوا سے ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ پلاسیبو ایفیکٹ کا واحد پہلو نہیں ہے- بچوں اور جانوروں پر بہت سے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بچوں اور جانوروں میں بھی پلاسیبو ایفیکٹ کام کرتا ہے جو کلاسیکل کنڈیشننگ کی وجہ سے ہوتا ہے- کلاسیکل کنڈیشننگ کا مطلب ہے کہ اگر کوئی عمل دو تین دفعہ ہوا اور اس کا نتیجہ اچھا نکلا تو بچوں اور جانوروں کے دماغ لاشعوری طور پر اس عمل اور نتیجے کے درمیان ایک تعلق فرض کر لیتے ہیں جسے کنڈیشننگ کہا جاتا ہے- مثال کے طور پر اگر بچے کے پیٹ میں درد ہے اور ماں نے اسے دودھ کے بجائے کچھ اور پینے کو دیا (بچوں کو دوا کے تصور کا علم نہیں ہوتا لیکن انہیں یہ علم ہوتا ہے کہ انہیں دودھ کے بجائے کچھ اور دیا جا رہا ہے) جس کے بعد درد ٹھیک ہو گیا تو بچہ اس چیز سے کنڈیشن ہو جائے گا یعنی اگر وہی چیز اسے دوبارہ دی جائے تو اس سے بچے کا درد ٹھیک ہو جائے گا خواہ وہ دوا پلاسیبو ہی کیوں نہ ہو- یہ عین ممکن ہے کہ پہلی دفعہ بچے کے پیٹ کا درد صرف اس لیے ٹھیک ہو گیا کہ پیٹ کا درد عموماً چند گھنٹوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے (ایسے امراض کو self-limiting ailments کہا جاتا ہے)- گویا پلاسیبو ایفیکٹ کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو شعوری طور پر یہ امید ہو کہ اس دوا سے آپ ٹھیک ہو جائیں گے- یہ امید لاشعوری بھی ہو سکتی ہے جسے کلاسیکل کنڈیشننگ کہا جاتا ہے
پلاسیبو ایفیکٹ سب پر کیوں اثر نہیں کرتا؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پلاسیبو ایفیکٹ واقعی بغیر دوا کے مرض کی علامات کو کم کر دیتا ہے تو ایسا تمام مریضوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا- پلاسیبو ایفیکٹ بہت سے عوامل پر منحصر ہوتا ہے- ان میں مریض کی جینیات، بیماری کی قسم، مریض کا اپنے ڈاکٹر پر کتنا اعتماد ہے، ڈاکٹر مریض کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے وغیرہ چند ایسے عوامل ہیں جن سے پلاسیبو ایفیکٹ متاثر ہوتا ہے- جینیات نے کچھ لوگوں کے دماغ اس طور پر ترتیب دیے ہوتے ہیں کہ ان میں نیوروٹرانسمٹر ڈوپامین کا لیول بہت آسانی سے اوپر نیچے ہو جاتا ہے- ایسے لوگوں میں پلاسیبو ایفیکٹ زیادہ دیکھا گیا ہے- ایسے لوگوں میں تکلیف کا احساس بھی باقی لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے لیکن ڈوپامین کا لیول زیادہ ہو جائے تو درد کا احساس بھی جاتا رہتا ہے- ایسے لوگوں میں پلاسیبو (یعنی جعلی دوا) کھانے سے بھی ڈوپامین کا لیول بڑھ جاتا ہے اور تکلیف کا احساس جاتا رہتا ہے- اسی طرح کچھ لوگوں کو ڈاکٹر کی توجہ کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے- یعنی ڈاکٹر اگر ان مریضوں سے تفصیلی بات چیت کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ ڈاکٹر کی دوا سے ان کا مرض جاتا رہے گا تو ایسے مریض پلاسیبو کھانے سے بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں- اس کے برعکس جن لوگوں کے دماغ میں ڈوپامین کے لیول میں زیادہ اونچ نیچ نہیں ہوتی ان پر پلاسیبو کا اثر بھی بہت کم ہوتا ہے
دواؤں کے ٹرائل میں پلاسیبو کیوں استعمال کی جاتی ہیں؟
کسی بھی دوا کے ابتدائی ٹیسٹ یا ٹرائل کے دوران یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ یہ دوا واقعی مرض کو کم کرتی ہے یا نہیں- چونکہ ہم جانتے ہیں کہ کچھ مریض محض پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے ٹھیک ہو جاتے ہیں اس لیے ٹرائل کو اس طرح سے ڈیزائن کرنا ضروری ہے کہ دوا کے اثرات اور پلاسیبو ایفیکٹ کی الگ الگ پیمائش کی جا سکے- اگر کسی دوا سے 80 فیصد مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن اسی مرض کے 30 فیصد مریض پلاسیبو سے بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا اور پلاسیبو کے اثر میں واضح فرق ہے یعنی دوا واقعی کارگر ہے- اس کے برعکس اگر کسی دوا سے 40 فیصد مریض ٹھیک ہوتے ہیں لیکن اسی مرض کے 35 فیصد مریض پلاسیبو سے بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں تو یہ دوا پلاسیبو کے مقابلے میں صرف 5 فیصد بہتر کام کرتی ہے- یہ فرق اتنا کم ہے کہ یہ تجربے کے دوران uncontrolled variables کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس لیے اس دوا کو اس مرض کے لیے پلاسیبو سے بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا- حکومتیں ایسی دواؤں کے استعمال کی منظوری نہیں دیتیں
پلاسیبو ایفیکٹ اور سوڈو سائنس
اگر آپ پلاسیبو ایفیکٹ کو سمجھ لیں تو پھر یہ سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ سوڈوسائنس پر مشتمل علاج لوگوں میں اتنے مقبول کیوں ہیں- ہومیوپیتھی، دیسی ٹوٹکے، اکوپنکچر، ریکی، remote healing، remote viewing، یہ تمام پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے کام کرتے ہیں- آپ نے دوسرے لوگوں سے سن رکھا ہوتا ہے کہ فلاں طریقہ علاج اچھا ہے اس لیے اپ کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ طریقہ علاج واقعی اچھا ہو گا- اس طرح آپ کا ذہن اپنے آپ کو پلاسیبو ریسپانس کے لیے تیار کر لیتا ہے- ہومیوپیتھی کی زیادہ تر دوائیں پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے ہی کام کرتی ہیں- ان دواوں کے سائنسی تجزیے سے یہ بارہا ثابت کیا جا چکا ہے کہ ان دواؤں میں سوائے پانی یا الکحل کے اور کچھ نہیں ہوتا- اس کے علاوہ ڈبل بلائنڈ سٹڈیز میں بارہا یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ ہومیوپیتھک دوائیں کام نہیں کرتیں- لیکن پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے ان کی مقبولیت قائم ہے-
معمولی بیماریوں مثلاً نزلہ زکام، معمولی چوٹ، پیٹ کا درد، بدہضمی وغیرہ کے لیے ہومیوپیتھک دوائیں لینے میں کوئی ہرج نہیں ہے کیونکہ یہ بیماریاں self-limiting ہیں یعنی آپ کوئی علاج نہ کریں تو بھی چند دن میں شفا حاصل ہو جاتی ہے- لیکن ایسے موذی مرض جو self-limiting نہیں ہیں اور باقاعدہ علاج نہ کیا جائے تو بڑھتے چلے جاتے ہیں ان کے لیے ہومیوپیتھک دواؤں کا استعمال خودکشی کے مترادف ہے- کینسر، ذیابیطس، دل کی شریانوں میں بلاکیج وغیرہ ایسی بیماریاں ہیں جن کا علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری بگڑتی چلی جاتی ہے- ان بیماریوں پر پلاسیبو ایفیکٹ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اگر پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے کچھ بہتری محسوس ہو بھی تو وہ محض نفسیاتی ہوتی ہے، اصل مرض میں کوئی کمی نہیں آتی- اس وجہ سے ایسے امراض کے لیے جدید طبی علاج انتہائی ضروری ہے.

Comments
Post a Comment