پاکستان میں کووڈ19 کے متاثرین کی تعداد میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی پہلی بار شناخت چین کے شہر ووہان میں ہوئی اور اسے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کو 2019 (کووِڈ- 19) کا نام دیا گیا۔ بیماری کے اس نام میں ’کو‘ کا مطلب ’کورونا‘ ’وی‘ کا مطلب ’وائرس‘ جبکہ ’ڈ‘ کا مطلب ڈیسیز یعنی بیماری ہے۔ اس سے قبل اس بیماری کو ’2019 نیا کورونا وائرس‘ یا ’2019 – این کو‘ کا نام بھی دیا گیا تھا۔
مختلف محققین نے اس پر تحقیق بھی کی ہے اور تاحال کراچی کے دو مختلف اداروں کے لیے کی جانے والی تحقیق سے دو اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تحقیق یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں کووِڈ19 کے 95 فیصد متاثرین میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
جبکہ اسی وجہ سے پاکستان میں کووِڈ19 کا وہ دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا جو باقی ممالک، جیسے سپین برطانیہ،چین میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ تحقیق آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فائزہ جہاں نے کی ہے۔ ان کی تحقیق کراچی کے دو اضلاع ڈسٹرکٹ ویسٹ اور ایسٹ میں وبا کے پھیلنے کے اوائل یعنی اپریل اور دوبارہ ماہِ جون کے آخر میں کی گئی۔ جس کے تحت دونوں ضلعوں سے پانچ پانچ سو رضاکاروں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔

اس تحقیق کے مطابق کراچی کے 10 میں سے نو افراد میں کورونا وائرس کے علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جس کے تحت یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملک بھر میں اسی لیے وبا کا زور دیکھنے میں نہیں آیا

جبکہ ایک اور تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 36 فیصد افراد میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اگر یہ ستمبر اور آنے والے مہینوں میں مسلسل مثبت ہی رہتا ہے تو اس سے ملک کو کورونا وبا کی دوسری لہر سے بچایا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے پبلک ہیلتھ جرنل کے لیے کی گئی ہے جس میں محقق ڈاکٹر ثمرین زیدی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر 60 فیصد آبادی میں کسی بھی انفیکشن یا وائرس کے خلاف اینٹی باڈی مثبت آتا ہے تو اس کو اجتماعی مدافعت کہا جاتا ہے
انھوں نے کہا کہ ’اس تحقیق سے ہم یہ اندازہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اب تک یعنی ستمبر تک مزید لوگوں میں اینٹی باڈی مثبت ہو گئی ہوں گی، اور اس بارے میں مزید تحقیق بھی جاری ہے، تو شاید پاکستان کورونا وائرس کی دوسری لہر سے محفوظ رہ سکے گا۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ اس میں کچھ باتیں ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہیں جیسے کہ یہ اینٹی باڈیز انسانوں میں کتنے عرصے تک موجود رہیں گی؟ اور کیا کورونا وائرس دوبارہ ہو سکتا ہے؟ یا انسان کے جسم میں پہلے سے کورونا وائرس کے باقیات موجود ہوتے ہیں جو بعد میں ایکٹو ہوجاتے ہیں

اس کے علاوہ، عالمی ادارہ صحت کے مطابق، اینٹی باڈی ٹیسٹ کا مثبت آنا اجتماعی مدافعت کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ صرف اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اجتماعی مدافعت ہے یا نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

خنزیر کے گوشت کی چربی کہاں استعمال کی جاتی ہے آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے

فرعون خوفو 7 عجوبوں میں واحد عجوبہ ہے جو۔۔۔۔۔۔؟

کیا واقعی اب واٹس ایپ مفت استعمال نہیں کر سکیں گے؟